Pharmacy Council of Pakistan, Pharmacy discipline and pharmacist community.

نومبر 7، 2021
نمبر: 7311-21
Pharmacy Council of Pakistan, Pharmacy discipline and pharmacist community.
پاکستان فارمیسی کونسل کی ناکامی کا سد باب اور اسکے نظام ادویات و صحت پر اثرات۔
مگر بدقسمتی سے یہ ادارہ گذشتہ کئی سالوں سے اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہو گیا ہے۔ محض انجمن ستائش باہمی اور کھاؤ، پیو موج اڑاؤ کی حسین محفل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔جو یاریاں نبھاتے ہیں اور چاروں طرف سے مجبوریوں اور کجیوں میں گرے نظر آتے ہیں۔ ملکی سطح پر کاروباری مافیہ اورمحکمہ ادویات کے ریٹائرڈ سرکاری افسران و اساتذہ کی ملی بھگت سے ہمہ تن نظام کو مجروح کرنے میں ہمہ تن مصروف نظر آتے ہیں۔ اورپشاورسے کراچی تک کم و بیش تمام نجی ادویاتی تعلیمی اداروں میں ریٹائرڈ افسران و اساتذہ مسلط کر دیئے ہیں۔ جو لوگ اپنے سرکاری اداروں میں مزید خدمات کے اہل نہیں وہ دنیا کے کس اصول اور قانون کے تحت نجی اداروں میں تعینات ہو گئے ہیں۔ نونہالان قوم و وطن سے فارمیسی کونسل کے اس سوتیلی ماں جیسے سلوک کی جتنی مذمت کی جائے کم ہوگی۔ان نجی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات جو اپنے واجبات کی شکل میں سرکاری اداروں سے زیادہ پیسے دیتے ہیں ، اصولی بنیادوں پر یقینا بہتر تعلیم و تربیت کے مستحق ہونے چاہئے۔مگر فارمیسی کونسل آف پاکستان کے گھناونے گٹھ جوڑ اور دوہرے معیارکیوجہ سے اعلٰی ، توانا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ماہر اساتذہ سے محروم ہیں۔ اور ان اداروں پر مسلط اکثر و پیشر وہی لوگ ہیں جو گذشتہ تیس سالوں سے پیشہ فارمیسی پر کسی سیاہ رات کی طرح مسلط ہیں اور کانفرنس مافیہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ تعلیمی و تحقیقی کانفرنس کےنام سے ہرتین چار سال بعد پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ فارمیسی برادری کے مینڈیٹ کو چرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس علمی تقریب کو بطو رہتھیا ر استعمال کرکے حکومتی اداروں کو چکمہ دیتے ہیں۔اور ذاتی و شخصی مفادات سمیٹنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔
فارمیسی کونسل آف پاکستان کی ناکامی کی دوسری دلیل ادویاتی تعلیمی اداروں میں مجوزہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے انتظامی ڈھانچہ کا نفاذ نہ کر سکنا ہے۔جسکی منظوری ایچ ای سی کے نیشنل کریکلم رویژن کمیٹی نے کراچی ریجنل آفس میں منعقدہ آخر ی اجلاس مور خہ جون 6-8، 2011 کو دی ۔ پھر اسی فیصلہ کو ایچ ای سی کے اجلاس مورخہ فروری 28 تا مارچ 2، 2011 میں حتمی شکل دی گئی۔ جس میں پاکستان کے تقریبا تمام ادویاتی تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شرکت فرمائی تھی۔اور 5 شعبہ جات قائم کرنے کاتحریری عہداورزبانی وعدہ کیاتھا۔ مگر فارمیسی کونسل آف پاکستان اس فیصلہ کے عملی نظاذ میں بھر پو ر انداز میں ناکام ٹھہرا۔ اس فیصلے اور اصولی وعدہ سے روگردانی کی قیادت و امامت شعبہ فارمیسی ، پنجاب یو نیورسٹی لاہورنے کی اور ابھی تک یہ اعزاز اسی دارے کو حاصل ہے۔
فارمیسی کونسل آف پاکستان کا ادارہ 1967ءمیں فارمیسی ایکٹ کے تحت معرز وجود میں آیا۔ جس کا بنیادی مقصد شعبہ ادویا ت، نظام صحت اور ماہرین ادویات کی اصلاح ، ترقی اور راہنمائی تھا۔طلبہ اور ماہرین کی مطلوبہ معیار پر تدریس ،تعلیم، تحقیق اورتربیت کو یقینی بنانا مقصود تھا۔ تاکہ فارغ التحصیل لوگ عملی زندگی میں ادویات و صحت کے شعبوں میں بھر پور اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اس ادارے کا صدر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، اسلام آباد ہیں۔ اور جناب پروفیسر ڈاکٹر جمشید علی خان نائب صدر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ یہ ادارہ منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن کا بھی حصہ ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر سرکاری وغیر سرکاری اداروں سے بھی منسلک ہے۔ اسکے ممبران چاروں صوبوں سے نامزد ہوتے ہیں۔ جو اداروں میں تربیتی مشینیں، تجرباتی مرکبات ، تجربہ گاہیں،کتب خانے اور دیگر تدریسی و تربیتی سہولیا ت کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ کی مطلوبہ شرح، انتظامی عملہ کی تعداد اور معیار کی تصدیق اور تائید کرتے ہیں۔نظام اوراداروںکوصحیح اور اصولی بنیادوں پرآگے بڑھاتے ہیں۔
فارمیسی کونسل آف پاکستان کے موجودہ نظم اور ممبران کی ناکامی کی اگلی دلیل اداروں میں پروفیسرز، اسوسی ایٹ اورنان ٹیچنگ سٹاف یا انتظامی عملہ کی تعینانی نہ کرا سکنا ہے۔کم و بیش تما م داروں کے سربراہان نے ایچ ای سی کے اجلاسوں میں شرکت کر کے 5 شعبہ جات قائم کرنے کاتحریری عہداورزبانی وعدہ کیاتھا۔ ہر شعبہ میں کم از کم 5پروفیسرز ،10 اسوسی ایٹ پروفیسرز اوراسی شرح سے طلبہ و اساتذہ کی تعداد کے تناسب سے باقی فیکلٹی، ٹیچنگ سٹاف اور انتظامی عملہ کی تعیناتی کا ٹھوس انتظامی، تدریسی اور تحقیقی ڈھانچہ بنایا تھا۔ مگر ہم اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ سرکاری اداروں یعنی یونیورسٹیوں کی انتظامیہ (رئیس جامعہ حصوصا اور رجسٹرا ر آفس عموما) اور نجی اداروں کے کاروباری مالکان اکثر و پیشتر ان عہدوں کی عملی تعیناتی سے کتراتے اور جان چھڑاتے ہیں۔ کیونکہ ان مناسک اور مناصب کے لوگ اداروں، برادری اور معاشرے میں موثر اثرات مرتب کر نے کی صلاحیت کے حامل ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی، تحقیقی اور تدریسی سطح پر اپنی بہترین قابلیتوں کے عملی اور حقیقی جوہر دکھانے کے قابل ہو جاتے ہیں اور یہ مظاہر ے صحیح اندز میں دیکھے بھی جا سکتے ہیں۔ مگر ملک وقوم دشمن عناصر کو کسی صورت یہ ترقی و استحکام گوارا نہیں ۔ جسکی بہترین مثال مغربی پنجاب کا ایک سرکاری ادارہ ہے جہاں تقریبا 19 سالوں سے صرف ایک ہی فارماسسٹ پروفیسر ہے۔ اور موجودہ پروفیسر اپنی بددیانتی ، بد عنوانی اور کرپشن کو انتہاء درجے کا تحفظ دینے کے لئے کسی اور کو پروفیسر بننے سے روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا تے چلا آرہا ہے۔
لٰہذاہم اپنے ادارے کے توسط سے ایک جاندار قوم کی صحت و تندرستی کیلئے معیار ی و مستحکم نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ جو عوام الناس کے معیار زندگی کی بہتری کو یقینی بنا سکے۔ یہ نظام بہادر ، توانا اور ایماندار ماہرین ہی کی بدولت ممکن ہو سکتا ہے۔ جو جدید طریق کار ، توانا اساتذہ اور معیاری سہولیات کی اداروں میں فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔ یہ تمام تر بندوبست کرنا، معروضی حالات کا منطقی جائزہ لینااور اسبا ب و وسائل کو حقیقی اور عملی انداز میں بروئے کار لانا کسی انداز اورشکل میں فارمیسی کونسل آف پاکستان کے موجودہ ممبران اور انتظامیہ کے ی بس کی بات نہیں۔
اسلئے ہم وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان (جنکی پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے) سے ادویات و صحت کے نظام سے انصاف کی التجاء کرتے ہیں۔ فارمیسی کونسل آف پاکستان کیساتھ اسی جوش اور ولولہ سے انصاف کا تقاضہ کرتے ہیں جیسےوہ اپنے سیاسی مخالفین کیساتھ کر رہے ہیں۔ اس ادارے کے نااہل ، کمزور اور بزدل نمائندگان کو فی الفور برطرف کیا جائے۔ انکے خلاف اپنے فرائض سے روگردانی کی بنیاد پر مناسب تفتیش اور قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ انہیں اس ناقابل معافی جرم کی کڑی سزا دی جائے۔ ذہین اور پیشہ ور ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔ سلیکشن بورڈ کی ماہرانہ تجاویز کی روشنی میں قابل، غیر جانبدار اور محنتی ممبران کو نامزد کر کے قوم و ملک کو شاندار ادویاتی و طبی سہولیات اور نظام کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے۔
| B.Pharm., M.Phil., PhD ڈاکٹر طٰہٰ نذیر |
| مدیر اعلٰی: رسالہ الادویہ Pharmaceutical Review ISSN: 2220-5187 | https://deeppink-gerbil-660508.hostingersite.com taha@deeppink-gerbil-660508.hostingersite.com | tahanazir@yahoo.com |
