
نیپال کے اس گاؤں میں منڈلانے والے اعضا فروش غریب دیہاتیوں کو لبھا کرجنوبی بھارت لے جاتے ہیں جہاں آپریشن کے بعد ان کا ایک گردہ نکال دیا جاتا ہے۔ کہانیاں تراشنے والے گردہ فروش گاؤں کے سادہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ انسان کے لیے صرف ایک گردہ کافی ہوتا ہے اور دوسرا گردہ کچھ دنوں بعد دوبارہ اُگ آتا ہے اسی طرح ان جعل سازوں نے ایک ایسی خاتون کو بھی بے وقوف بنایا جس کا گھر نیپال میں آنے والے حالیہ زلزلے میں تباہ ہوچکا تھا، یہ جعل ساز اس خاتون کو 10 سال
نیپال میں ہرسال غیرقانونی طور پر 7 ہزار گردے فروخت کیے جاتے ہیں اور گردہ مافیا کئی مواقع پر لوگوں کو اغوا کرکے ان کا گردہ نکالتے ہیں یا پھر کسی اور آپریشن کی آڑ میں ان کا گردہ ہتھیالیتے ہیں اس کے ساتھ بعض لوگوں کو قتل بھی کردیا جاتا ہے اور وہ گردہ دینے والے کے مقابلے میں 6 سے 8 گنا زائد رقم امیر افراد سے وصول کرتے ہیں۔
گردہ مافیا نے ایک نیپالی باشندے کو نشہ آور دوا پلا کر اس کا گردہ نکال لیا جس کے بعد اسے 3 ماہ بعد صرف 150 ڈالر رقم فراہم کی گئی، نیپال میں گردہ مافیا کی ان وارداتوں کے بعد حکومت نے سکیورٹی فورسز کو اس جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی ہے جس کے بعد کچھ عناصر کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔
سے گردہ فروخت کرنے پر قائل کررہے تھے تاہم اب مجبوری کے باعث خاتون نے اپنا گردہ 2 ہزار ڈالر میں فروخت دیا۔
