February 23, 2012
by Advanced Atlantic Consortium
Comments Off on بیماریوں سے بچانے والی سبزیاں بیماریوں کا سبب

بیماریوں سے بچانے والی سبزیاں بیماریوں کا سبب

…..اویس عالم …..
کراچی کے شہری جو سبزی کھارہے ہیں خاص طور پر جو سبزی ملیر کے علاقے میں کاشت کی جارہی ہے اس کی کثیر تعداد زہریلے اور گٹر کے پانی سے کاشت کی جارہی ہے جو مہلک بیماریوں کا ایک بڑا سبب ہے،ایسی سبزیوں میں کثافت کی غیر معمولی مقدار ہوتی ہے اور سبزی کااستعمال کرنے والا ”Carcinogenic”نامی بیماری کا شکارہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ سبزی گردے،جگرکینسر ،ہپا ٹائٹس،گیسٹرو سمیت پیٹ کے امراض،اعصابی بیماریوں سمیت دماغی کارکردگی کو شدید متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہے ۔یہ ایک انتہائی فکر انگیز اور خطرناک بات ہے کیونکہ ان سبزیوں میں وہ اجزاء شامل ہیں جو انسان کی صحت کیلئے خطرناک ہوسکتے ہیں اور کینسرکے تناسب میں بھیانک اضافے کا سبب بن رہا ہے ۔
جیوکے پروگرام”ہم عوام“ کیلئے بنائی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی تحقیق کے مطابق ملیر کے ایک علاقے میں سبزی کاشت کرنے کیلئے گٹر کی لائنوں کو توڑا گیا ، گٹر سے بہتا ہوا فضلہ براہ راست سبزیوں کی کاشت کی جگہ پر پہنچایا گیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ایسا پانی بھی استعمال کیا جا رہا ہے جو چمڑے کے کارخانوں سے نکلتا ہے اس پانی میں بڑی مقدار دھات کی بھی شامل ہوتی ہے۔
یہاں اگائی جانے والی سبزیوں جن میں آلو،ٹماٹر،بیگن،مولی،پھول گوبھی،لیموں،کریلے،چقندر،مرچ کھیرے اور دیگر سبزیاں شامل ہیں میں سیسہ،آرسینک اور کیڈمیم کی مقدار خطرناک حد تک موجود ہے۔اعداو شمار کے مطابق یہاں اگائی جانے والی پھول گوبھی میں سیسہ کی مقدار معمول کی مقدار4.1ngسے41گنا زیادہ ہے،آرسینک کی مقدارgجو/0.03ngہونی چاہیئے لیکن یہاں کی پھول گوبھی میں یہ مقدار0.24ng ہے جبکہ کیڈمیم کی مقدارg/0.05ngتک بے ضرر ہوتی ہے لیکن یہاں کی سبزی میں پائی جانے والی یہ مقدارg/0.0372ng پائی گئی ہے۔اسی طرح لیموں میں سیسہ کی مقدار2.1ngکے بجائے21گنا زیادہ ہے جبکہ کیڈمیم کی مقدار0.16ہے۔چقندر میں سیسہ کی مقدار46گنا زیادہ ہے،کیڈمیم کی مقدار0.69گنا زیادہ ہے۔کھیرے میں سیسہ کی مقدار 41گنا،آرسینک کی مقدار0.64گنا اورکیڈمیم کی مقدار0.39گنا زیادہ ہے۔کریلے میں سیسہ کی مقدار48گنا زیادہ ہے،مرچ میں سیسہ کی مقدار 22گنازیادہ پائی گئی جو پاکستان کی زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے معین کی گئی مقدارسے کہیں زیادہ ہے اور یہ ہی مقدار استعمال کرنے والے کو خطر ناک اور مہلک بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔
اس پانی سے ہر سیزن کی سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں اور مقامی مارکیٹ کے ساتھ مرکزی سبزی منڈی میں بھی فروخت ہوتی ہے جس کے بعد یہ افسوسناک صورتحال پیدا ہوتی ہے کہ ہم پہچان ہی نہیں سکتے کہ صاف پانی کی سبزی کونسی ہے اور گندے و آلودہ پانی کی زہرآلودہ سبزی کون سی ہے جو در اصل تشویش ناک صورت حال ہے ۔ گندے اور زہریلے پانی سے سبزیوں کی کاشت مجرمانہ غفلت ہے، اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔ ایسی صورت حال کی روک تھا کے لئے قانون تو موجود ہے لیکن جب تک قانون پر مکمل طورپر مخلصانہ اور ایماندارانہ طور پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک اس چیز کا سدباب نہیں کیا جاسکتا۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سبزیوں سمیت دیگر کاشت کری کے لئے صاف پانی مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

February 23, 2012
by Advanced Atlantic Consortium
Comments Off on دوائیں مہنگی۔۔۔ موت سستی !

دوائیں مہنگی۔۔۔ موت سستی !

چند روز قبل وزارت صحت نے ملٹی نیشنل اور مقامی دوا ساز اداروں کو قیمتوں میں بیس سے سو فیصد اضافے کی منظوری دے دی جس کے تحت پہلے مرحلے میں 350 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ بقیہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ جلد متوقع ہے۔حد تو یہ ہے کہ کھانسی کے شربت کی قیمت میں سو فیصد اضافہ، سر درد کی گولی کے پیکٹ کی قیمت میں اایک سو تیس روپے کا اضافہ جبکہ ذیابیطس اور اینٹی بائیوٹک کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس عوام دشمن فیصلے پر کچھ سیاسی جماعتوں نے نیم دلانہ احتجاج کیا اور پھر خاموشی اختیار کرلی یوں غریب عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
وزارت صحت جسے نہ تو دواؤں کی کوالٹی کی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ان کی مارکیٹ میں عدم دستیابی کی کوئی خبر ہوتی ہے اور نہ ہی یہ معلوم کرنے کی زحمت کرتی ہے کہ کتنی جعلی ادویات اور زائد معیاد کی ادویات کھلے عام فروخت ہو رہی ہے ، اسے بس عوام کے بجائے ادویہ ساز کمپنیوں کے مفادات کا خیال رہتا ہے۔ سستی اور غیر معیاری ہربل ادویات کے لیبل کی آڑ میں کیا کیا بک رہا ہے انہیں یہ جاننے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں مرنا تو غریب عوام کو ہی ہے، ان کے نمائندوں کو تو مفت ادویات اور بیرون ملک علاج کی سہولت حاصل ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ عوام ایک تو مہنگی ادویات خریدیں اور اس پر یہ گارنٹی بھی نہیں کہ یہ دوا اصلی بھی ہے یا نہیں۔ ہر تھوڑی مدت بعد یہ خبر سننے میں آتی ہے کہ نقلی انجکشن یاغیرمعیاری ادویات سے کوئی مریض انتقال کر گیا جس کی ذمہ داری ڈاکٹر سے لے کر انتظامیہ اور ادویات بنانے والے ، کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ وطن عزیز میں ادویات پہلے ہی غریب عوام کی پہنچ سے دور تھی۔۔۔ دماغ کے ٹیومر کا علاج سر درد کی گولی سے کرنے والے غریب مزدور کی پہنچ سے یہ گولی بھی اب دور ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ ٹی بی کا علاج کھانسی کے شربت میں ڈھونڈنے والوں کے لیئے ، یہ دوا مہنگی کر کے موت کوسستا کردیا گیا ہے۔۔۔پہلے سسک سسک کر مرتے تھے اب ایڑیاں رگڑ کے مرو۔۔۔۔۔ کچھ سستا ہوا یا نہیں۔۔۔ موت تو سستی ہو رہی ہے۔