July 5, 2014
by PharmaReviews
0 comments

برطانیہ میں جبری شادیاں کرانے والوں کو جیل کی ہوا کھانا پڑے گی

ویب ڈیسک  بدھ 18 جون 2014

برطانیہ میں مقیم پاکستانی ،بنگلہ دیشی اور بھارتی اپنے بچوں کی آبائی ممالک میں لاکر ان کی مرضی کے خلاف شادیاں کردیتے ہیں۔ فوٹو: فائل

لندن: برطانیہ میں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی جبری شادیوں کو روکنے کے لئے نیا قانو نافذ کردیا گیا ہے جس کے تحت اس اقدام میں ملوث افراد کو 7 سال تک جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ میں نافذ قانون کے تحت وہ برطانوی شہری جو اپنے بچوں کی جبری شادیوں میں ملوث پائے گئے انہیں 7 سال تک سزا دی جاسکے گی، اس قانون کا اطلاق نہ صرف برطانیہ بلکہ بیرون ملک جبری شادی کرنے والے برطانوی شہریوں پر بھی کیا جاسکے گا۔

برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مے کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو بلاتفریق اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کا حق ہے، جبری شادی ہر متاثرہ شخص کے لئے کسی بڑے المیے سے کم نہیں لیکن برطانیہ اس فعل کی روک تھام کے لئے سب سے آگے ہے۔ اس قانون سے برطانوی شہریوں کو اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کے لئے تحفظ اور آزادی حاصل ہوگی۔

واضح رہے کہ برطانوی شہریوں میں پاکستان ،بنگلا دیشی اور بھارتی نژاد افراد اپنے بچوں کی آبائی ممالک میں آکر ان کی مرضی کے خلاف شادیاں کردیتے ہیں۔

July 5, 2014
by PharmaReviews
0 comments

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا

ثناء غوری  اتوار 15 جون 2014

بعض ویب سائٹس سوشل میڈیا پر مُردوں کو نئی زندگی دینے میں مصروف۔ فوٹو : فائل

مرنا تو ہر ایک کو ہے، مگر اکثر لوگ مر کر بھی جینے کی خواہش رکھتے ہیں، ایسا نہیں کہ وہ ’’بھوت‘‘ بن کر جینا چاہیں، بلکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انھیں مرنے کے بعد بھی یاد رکھا جائے اور ان کا تذکرہ کیا جائے۔ مگر ڈیجیٹل دنیا میں مرنے والوں کو باقاعدہ زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی موجود ہے۔

مرکر زندوں کی طرح جینے کا ایک خواہش مندLawrence Darani بھی تھا۔ وہ تیزی سے موت کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دو سال قبل ڈاکٹروں نے اسے بتادیا تھا کہ اس کے پھیپھڑے جواب دے گئے ہیں، اور وہ زیادہ سے زیادہ دو سال زندہ رہ سکے گا۔ اگرچہ یہ بشر اپنی زندگی کی مدت سے آگاہ ہوگیا اور جانتا تھا کہ اسے کب تک مرجانا ہے، مگر وہ مکمل طور پر پُرسکون تھا۔ وہ چائے پیتا اور جنوبی لندن میں واقع اپنے گھر میں آرام کرسی پر بیٹھا جھولتا رہتا۔ وہ مطمئن تھا، اس لیے کہ کم ازکم اپنے نزدیک وہ زندہ جاوید ہونے جا رہا ہے۔

دراصل ہزاروں دیگر لوگوں کی طرح لارنس بھی حقیقی دنیا چھوڑنے کے بعد ڈیجیٹل دنیا میں رہنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں وہ DeadSocial نامی ایک ویب سائٹ پر سائن اپ ہوچکا تھا۔

’’ڈیڈسوشل‘‘ ایک فری آن لائن سروس ہے جو لوگوں کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ’’زندہ‘‘ رہ سکیں۔ اس مقصد کے لیے اس سائٹ سے استفادہ کرنے والے یوزرز اپنی تصاویر، وڈیوز، آڈیوز اور ٹیکسٹ میسیج بہت بڑی تعداد میں اپ لوڈ کرسکتے ہیں، جو ان کی وفات کے بعد فیس بک، ٹوئٹر، لنکڈان سمیت ہر اس ویب سائٹ پر جہاں مرنے والے کا اکاؤنٹ ہو اور ڈیڈسوشل پر وقتاً فوقتاً بھیجے جاتے رہیں گے۔ یوزرز اس حوالے سے اپنے میسیجز وغیرہ کا باقاعدہ  999 سال کا شیڈول بھی بناسکتے ہیں، جنھیں اس شیڈول کے مطابق پوسٹ کیا جاتا رہے گا۔

لارنس خوش اور مطمئن تھا کہ ڈیڈسوشل سائٹ کے ذریعے وہ آئندہ ہزاریے تک زندہ رہے گا اور اس کی آنے والی نسلیں اسے اپنے درمیان جیتا جاگتا محسوس کرسکیں گی۔

لارنس اب اس دنیا میں نہیں اور اپنی ڈیجیٹل ورلڈ میں زندگی کے سلسلے میں لارنس نے جو پہلی وڈیو بنوائی وہ ڈیڈسوشل سائٹ پر آچکی ہے، جس میں وہ کہتا ہے،’’کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ اس وڈیو کے ذریعے میں نہ صرف اپنی اولاد بل کہ اس کی اولاد سے بھی مخاطب ہو رہا ہوں اور اپنی ان تمام نسلوں سے جو آئندہ آنے والی ہیں۔‘‘

لارنس کی مثال سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ سوشل میڈیا ہمیں مرنے کے بعد بھی زندہ دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس مقصد کے لیے مخصوص ویب سائٹس بہت اہتمام سے تیار کردہ ’’میموریل پیکیجز‘‘ کے ذریعے مرنے والوں کی زندگی کو مصنوعی تسلسل دیا جاتا ہے۔ اس طرح مرنے والے کے مختلف سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر بنائے جانے والے اکاؤنٹس اس کے مرنے کے بعد بھی سرگرم رہتے ہیں، یوں وہ صرف یاد نہیں بنتا بل کہ ایک متحرک فرد کے طور پر اپنے خاندان اور دوستوں میں موجود رہتا ہے۔

’’ڈیڈسوشل‘‘ ان ویب سائٹس میں نیا اضافہ ہے جو یوزرز کو مرنے کے بعد زندہ رہنے کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جو ویب سائٹس یہ سروس دے رہی ہیں ان میں Legacy Locker،Cirrus Legacy اور Secure Safe شامل ہیں۔ یہ سائٹس اپنی سروس حاصل کرنے والے یوزر کے مختلف سوشل ویب سائٹس کے پاس ورڈز اور ان کی اہم فائلز اپنے پاس محفوظ کرلیتی ہیں اور پھر یوزر کے مرنے کے بعد یہ فائلز سوشل ویب سائٹس پر مرنے والے یوزر کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔

یوزر کے بعدازمرگ دنیا سے تعلق برقرار رکھنے والی سائٹس میں LivesOn بھی شامل ہے۔ اس سروس پرووائڈر سائٹ کا سلوگن ہے،’’جب آپ کا دل دھڑکنا بند ہوجائے گا تو بھی آپ ٹوئٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔‘‘ یہ سائٹ یوزرز کے زندگی میں کیے گئے ٹوئٹس کا تجزیہ کرتے ہوئے یوزر کے جملوں کی ساخت اور اس کے پسندیدہ موضوعات کے بارے میں اچھی طرح جان کر اسی انداز اور اسلوب میں اور ان ہی موضوعات سے متعلق، یوزر کے مرنے کے بعد، اس کی طرف سے ٹوئٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔

ضروری نہیں کہ کوئی یوزر اپنی موت کے بعد سوشل ویب سائٹس پر زندہ رہنے کے لیے کسی ویب سائٹ کا سہارا لے۔ اس مقصد کے لیے کسی قابل اعتماد شخص کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ جیسے فلموں کے تنقید نگار Roger Ebert نے کیا۔

سرطان کا شکار ہونے کے بعد اس نے اپنی بیوی Chaz کو اپنی ’’ڈیجیٹل اسٹیٹ‘‘ کا منیجر مقرر کردیا۔ اپریل 2013 میں جب Roger Ebert دنیا سے گیا تو اس کے فیس بک پیج کو لائیک کرنے والوں کی تعداد 100,000 تھی اور ٹوئٹر پر اس کے اکاؤنٹ کو فالو کرنے والے 850,000 سے زیادہ تھے، وہ چاہتا تھا کہ یہ سلسلہ چلتا رہے، سو اس کے بعد اس کی بیوی نے ان سائٹس پر اپنے شوہر کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ اپنی موت سے چند ہفتے قبل Roger Ebert نے اپنی بیوی سے وعدہ لیا تھا کہ وہ اس کے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ کی دیکھ بھال کرے گی، انھیں ایکٹیو رکھے گی اور اپ ڈیٹ کرنے کے ساتھ پرسنل میسیج بھی کرتی رہے گی۔

مرنے کے بعد سوشل میڈیا کی دنیا میں زندہ رہنے کے لیے کسی ویب سائٹ یا سوفٹ ویئر پر انحصار کرنے کے بہ جائے کسی فرد کو ذریعہ بنانا ایک راست طریقہ تو ہے، لیکن اس میں کئی مشکلات آڑے آتی ہیں۔

Roger Ebert کی بیوی Chaz کو اپنے شوہر کا اکاؤنٹ استعمال کرنے کے لیے ٹوئٹر کی خصوصی اجازت حاصل کرنا پڑی، کیوں کہ یہ ٹوئٹر اور فیس بک کے ضوابط کے خلاف ہے کہ کسی یوزر کا اکاؤنٹ کوئی اور استعمال کرے۔ فیس بک انتظامیہ کسی مرجانے والے یوزر کے اکاؤنٹ کو ’’یادگاری‘‘ اسٹیٹس میں تبدیل کردینے دینے کو ترجیح دیتی ہے۔ جب ایک بار یہ حقیقت سامنے آجائے کہ اکاؤنٹ ہولڈر اس دنیا میں نہیں، تو فیس بک اس اکاؤنٹ سے اسٹیٹس اپ ڈیٹس اور کونٹیکٹ ڈیٹیلز ختم کردیتی ہے۔

مغربی ممالک میں مرنے کے بعد ڈیجیٹل دنیا میں زندہ رہنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے لوگوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے قائم کی جانے والی ویب سائٹ DeadSocial کے بانی اور سی ای او James Norris کا دفتر شمالی لندن میں واقع ہے۔ جیمز کہتے ہیں،’’اگر ہم امیر ہیں تو ہم اپنے لیے بڑے سے بڑا قبر کا کتبہ خریدیں گے، بہت دولت مند ہوں تو کسی اسپتال کا کوئی حصہ خود سے منسوب کرلیں گے، کتبہ ٹوٹ پھوٹ سکتا ہے، اسپتال گر سکتا ہے، لیکن انٹرنیٹ کہیں نہیں جارہا۔ آپ کا تمام ڈیجیٹل مواد اور دستاویزات یہاں (محفوظ) رہیں گی۔‘‘ یہی وہ احساس ہے جس کی بنا پر موت کی بعد جیتے رہنے کی آرزو کرنے والے انٹرنیٹ کو اپنی اس خواہش کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔

James Norris کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے مارچ سے، جب ان کی ویب سائٹ قائم ہوئی تھی، ہر روز ان کے یوزرز میں اضافہ ہورہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی ویب سائٹ کو لوگ دو طرح سے استعمال کرسکتے ہیں، دنیا کو اپنے طریقے سے خیرباد کہنے کے لیے اور مرنے کے بعد بھی ڈیجیٹل دنیا میں زندہ اور متحرک رہنے کے لیے۔ James Norris کا کہنا ہے کہ ہمارے روزوشب کا بیشتر حصہ آن لائن سرگرمیوں میں گزرتا ہے۔ فیس بک پر آپ اپنے دوستوں اور کمیونٹیز کے ساتھ اپنا بہت سا وقت گزارتے ہیں۔ جب ہم مرجاتے ہیں تو ہمارے ڈیجیٹل نقش پا ہمارے ڈیجیٹل ورثہ بن جاتے ہیں۔ یہ ایک طریقہ ہے مرنے والوں کے اس ورثے کو منظم کرنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کا اور یہ اہتمام کرنے کا کہ آپ کو مرنے کے بعد کیسے یاد رکھا جائے۔

مرنے والوں کو نئی زندگی دینے والی ویب سائٹس میں DeadSocial کی قریب ترین مدمقابل ’’ If I Die‘‘ ہے۔ یہ 2011 میں سامنے آنے والی ایک اسرائیلی ایپلیکیشن ہے۔ یہ ایپلیکشن اپنے استعمال کنندہ کو یہ سہولت کسی معاوضے کے بغیر فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنا ایک پیغام ریکارڈ کروادیں، جو ان کے مرنے کے بعد ان کی فیس بک وال پر پوسٹ کردیا جائے گا، جب کہ پچیس ڈالر ادا کرکے اس ایپلیکشن کے ذریعے یوزر اپنی پانچ وڈیوز اپ لوڈ کرواسکتا ہے۔ ’’اِف آئی ڈائی‘‘ کے تخلیق کار Eran Alfonta کہتے ہیں کہ ان کے یوزرز کی تعداد لاکھوں میں ہے اور امکان ہے کہ یہ تعداد اس سال بڑھ کر دس لاکھ سے تجاوز کرجائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران اس سروس کو استعمال کرنے والوں شام سے تعلق رکھنے والے یوزرز کی تعداد حیرت انگیز طور پر بہت بڑھ گئی ہے۔

واضح رہے کہ شام خانہ جنگی کا شکار ہے، جہاں بھاری تعداد میں اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ زندہ رہنے کی آرزو بھی کتنی ظالم ہے، اس کے لیے انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔ اسی آرزو کو اب کاروبار کی شکل دے دی گئی ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ آپ سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والا کسی دوست یا عزیز کہ فیس بک اکاؤنٹ پر آپ اس کی شیئر کی ہوئی پوسٹس، تصاویر اور وڈیوز دیکھتے رہیں، اس کے کمنٹس آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے رہیں، اس کے پرائیویٹ میسیج آپ کے پاس آتے رہیں، شاید یہ خود فریبی یہ خوشی دے سکے کہ جو شخص ہمیشہ کے لیے دنیا سے چلاگیا ہے وہ۔۔۔۔یہیں ہے۔۔۔۔یہیں کہیں ہے۔

July 5, 2014
by PharmaReviews
0 comments

’’پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب‘‘ دنیا کی 10 کامیاب شخصیات نے محاورہ غلط ثابت کردیا

آن لائن  پير 16 جون 2014

مارک زکریوگ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا مگر انھوں نے فیس بک بنا کر کروڑوں دلوں پر راج کیا فوٹو: فائل

اسلام آباد: کہا جاتا ہے کہ ’’پڑھوگے لکھو گے بنو گے نواب‘‘ لیکن ایک حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا کی 10کامیاب شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اس محاورہ کوغلط ثابت کر دیا۔

انھیں تعلیمی اداروں سے نکال دیا گیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا پوری دنیا سے منوایا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ پلوف کو1989ء میں ڈیل اویر یونیورسٹی سے فارغ کر دیا گیا جب کہ میڈونا گلوکارہ کو1978ء میں مشی گن یونیورسٹی سے فارغ کر دیا گیا مگر وہ کامیاب گلو کارہ بن گئیں۔ حیمز کیمرون کو فلٹرن کالج میں سے اس وقت نکالا گیا جب وہ فزکس میں ماسٹر ڈگری لینے کے لیے کوشاں تھے ویئرسے شادی کی اور ٹرک ڈرائیور بن گئے‘ آج وہ فلم میکرز میں سے ایک ہیں۔

ٹام ہٹیکس ورسٹائل فلم اسٹار ہیں‘ انھیں بھی کالج سے نکال دیا گیا تھا۔ اوپرائے ونفرئی کو تنسی ااسٹیٹ یونیورسٹی سے نکال دیا گیا مگر وہ کامیاب ٹی وی میزبان بنی اور ان کی دولت کا اندازہ 2 ارب 70کروڑ میں لگایا گیا۔ ٹیڈٹرز کاروباری شخصیت اور کارٹونسٹ ہیں‘ ان کے کمرے سے خاتون برآمد ہونے کیوجہ سے انھیں کالج سے نکال دیا گیا تھا۔ مارک زکریوگ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا مگر انھوں نے فیس بک بنا کر کروڑوں دلوں پر راج کیا ہے۔ باقی افراد فرینک‘ سٹیوجاہز اور بل گیٹس کو بھی کالج اوریونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

June 30, 2014
by PharmaReviews
0 comments

دکھی انسانیت کی مسیحائی ایک مقدس کام ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مگر امریکا میں ڈاکٹری ذلّت آمیز پیشہ بن گیا ہے۔

سالانہ 300 مسیحا خود کشی کرنے لگے۔ فوٹو : فائل

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ مریضوں کو جینے کا حوصلہ دینے والے ڈاکٹر اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ کررہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں سالانہ 300 ڈاکٹر ڈپریشن میں مبتلا ہوکر خود کشی کرتے ہیں۔ اپنے مستقبل سے مایوس امریکی ڈاکٹر اس پیشے کو خیرباد کہہ کر دوسرے شعبوں کا انتخاب کررہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا میں ’’ فزیشن ایم بی اے پروگرام ‘‘ مقبول ہورہے ہیں۔ یہ پروگرام مکمل کرنے والے ڈاکٹر انتظامی شعبوں میں روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔ امریکا میں ڈاکٹروں کو متبادل روزگار کے حصول میں معاونت فراہم کرنے والی متعدد ویب سائٹ کام کررہی ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ہر دس میں سے نو ڈاکٹر اس پیشے کو اپنانے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اس تمام صورت حال کی ذمہ داری ہیلتھ کیئر سسٹم کی خرابیوں پر عائد ہوتی ہے۔

امریکا میں صحت کا شعبہ عرصۂ دراز سے ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران صدر باراک اوباما نے عوام سے شعبۂ صحت میں اصلاحات کرنے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک وفا نہ ہوسکا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہیلتھ کیئر کے ناقص نظام کے اثرات سے اسپیشلسٹ ڈاکٹر اور سرجن محفوظ ہیں۔ امریکا میں ریڈیالوجسٹ، اوپتھلمولوجسٹ اور پلاسٹک سرجنوں پر ڈالروں کی بارش ہورہی ہے تو دوسری جانب ایم بی بی ایس کی ڈگری رکھنے والے عام ڈاکٹروں کے لیے گزارہ کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ امریکا میں ان کے لیے بنیادی یا پرائمری ڈاکٹر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

بدقسمتی سے ڈاکٹروں بالخصوص ان ڈاکٹروں کے لیے صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے جو حکومت سے ہیلتھ انشورنس وصول کرتے ہیں۔ میری لینڈ یونی ورسٹی میڈیکل سینٹر کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور جنرل فزیشن ڈاکٹر اسٹیفن شمف کے مطابق، جو شعبۂ صحت کی خامیوں پر کتاب بھی لکھ رہے ہیں، ڈاکٹر کو ہر مریض کے انشورنس فارم کے ساتھ 58 ڈالر فیس کی مد میں جمع کروانے پڑتے ہیں۔ وہ مریض سے اتنی معائنہ فیس وصول نہیں کرتا جتنی کہ انشورنس حاصل کرنے کے لیے جمع کروانی پڑ جاتی ہے۔

چنانچہ ڈاکٹروں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مریض دیکھیں، بہ صورت دیگر انھیں کھانے کے لالے پڑجاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ مریض دیکھنے کی مجبوری کی وجہ سے وہ ہر مریض کو اوسطاً بارہ منٹ سے زیادہ وقت نہیں دے پاتے جس سے مریضوں کا بھی نقصان ہوتا ہے۔

اس صورت حال سے ڈاکٹر اور مریض دونوں ہی خوش نہیں ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ Affordable Care Act کے ذریعے ہر کسی کو ہیلتھ انشورنس خریدنے کا پابند کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹروں کو انشورنس کلیم حاصل کرنے کے پیچیدہ طریقۂ کار سے آگاہ بھی نہیں کیا جاتا۔ انشورنس کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات نے کتنے ہی ڈاکٹروں کو اپنے کلینک بند کرکے ملازمت اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کے رش کی وجہ سے ڈاکٹروں کے لیے ہر مریض کو مناسب وقت دینا ممکن نہیں۔

دوسری جانب ان کی تنخواہوں کو مریضوں کی تسلی و اطمینان سے منسلک کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے۔ اگر مریض کسی ڈاکٹر سے مطمئن نہیں ہوگا تو اس کی ’ میڈی کیئر پیمنٹ ‘ میں کٹوتی کردی جائے گی۔ لہٰذا اسے مریض کو مطمئن بھی کرنا ہے اور مقررہ وقت میں زیادہ سے زیادہ مریض بھی دیکھنے ہیں۔ ایک طرح سے ڈاکٹر کو مریض کے ہاتھوں یرغمال بنادیا گیا ہے جس کی کسی بات سے وہ انکار نہیں کرسکتا۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر کو روزانہ بلامبالغہ انشورنس اور دیگر قسم کے سیکڑوں فارمز پر دستخط کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری جانب کمپیوٹر اسکرین پر بھی تواتر سے مختلف قسم کی ای میلز موصول ہوتی رہتی ہیں جن کا انھیں فوری جواب دینا ہوتا ہے۔ اور مختلف قسم کے فارمز بھی نمودار ہوتے رہتے ہیں جنھیں فوری پُر کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انشورنس کمپنیوں کے ساتھ تمام معاملات نمٹانے کی ذمہ داری بھی ڈاکٹر ہی کی ہوتی ہے۔ بیشتر اوقات انھیں یہ تمام امور اپنے اوقات کار کے بعد بھی انجام دینے پڑتے ہیں۔

ڈاکٹروں کو درپیش مشکلات کی سنگینی کو بڑھانے میں ذرائع ابلاغ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر انھیں ایسے کاموں کے لیے بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اسپتال میں اگر فرنیچر ٹوٹا ہوا ہے تو اس کا ذمہ دار ڈاکٹر ہے، اگر مریض وہیل چیئر سے مطمئن نہیں ہے تو اس کی ذمہ داری بھی انتظامیہ کے بجائے ڈاکٹروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ اگر لیب ٹیسٹ منہگے ہیں تو اس کے ذمہ دار بھی ڈاکٹر ہی ہیں۔

ان کے علاوہ بھی ڈاکٹروں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے جنھیں حل کرنے کے لیے نہ تو حکومت اور نہ ہی ’’ امریکن بورڈ آف انٹرنل میڈیسن‘‘ تیار  ہے۔ اس تمام صورت حال میں ڈاکٹروں کا ڈپریشن میں مبتلا فطری امر ہے، اور اگر سالانہ 300 ڈاکٹر خودکشی کررہے ہیں تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

June 29, 2014
by PharmaReviews
0 comments

سنگاپور: موبائل فون نے جہاں زندگی کا رنگ ڈھنگ ،طرز گفتگو اور ملاقات ہی بدل ڈالا ہے وہیں نوجوان نسل کو ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا کردیا ہے جس کے باعث وہ اپنے تعلیمی عمل سے دور ہوتے جارہے ہیں اورایک تازہ ترین تحقیقاتی مطالعہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ میڈیکل اتھارٹیز کو چاہئے کہ وہ انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے نشے کو دماغی عدم توازن قرار دیں۔

اکثر نوجوانوں کو جب اسمارٹ فون سے الگ کردیا جائے تو وہ شدید ذہنی پریشانی اور کرب پر کنٹرول نہیں کر پاتے،ماہرین نفسیات۔ فوٹو: فائل

سنگا پور سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگاپور کے لوگ ایک سیشن میں 38 منٹ تک فیس بک کا استعمال کرتے ہیں۔ ماہر نفسیات ایدریان وینگ نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل کے نشے کو نفسیاتی عدم توازن قرار دیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذہنی دباؤ اور پریشانی جیسی بیماریوں کے ساتھ کئی مریض ان کے پاس آتے ہیں لیکن ان کی ان پریشانیوں کا اصل سبب مسلسل آن لائن اور سوشل میڈیا کے روابط ہیں۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک لوگ آن لائن گیم کے نشے کے عادی تھے تاہم اب سوشل میڈیا اور ویڈیو ڈاؤن لوڈنگ اس سے بڑا نشہ بن گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مسلسل میسیجنگ کے باعث نوجوان اکثر ٹیکسٹ نیک یا آئی نیک کی تکلیف کا شکار رہتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق اکثر نوجوان جب لائن میں کھڑے ہوں یا سڑک پار کر رہے ہوں تو موبائل فون پر ایس ایم ایس کرنے میں مصروف رہتے ہیں جو گردن میں تکلیف کا باعث بنتا ہے، اکثر نوجوانوں کو جب اسمارٹ فون سے الگ کردیا جائے تو وہ شدید ذہنی پریشانی اور کرب پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔

June 29, 2014
by PharmaReviews
0 comments

آج کل روس کے ماہر سائنس داں نیند کی ایک ایسی پراسرار بیماری کے اسباب معلوم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

پراسرار نیند کی بیماری سب سے پہلے مئی 2013 میں منظر عام پر آئی فوٹو: فائل

جس سے متاثر ہونے والے افراد ایک آدھ گھنٹے یا ایک آدھ دن نہیں بلکہ پورے پورے ہفتے مسلسل سوتے رہتے ہیں۔ یہ واقعات سوویت یونین دور کے ایک بھوتوں والے قصبے میں مقیم افراد کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔ یہ قصبہ پہلے ہی غیرآباد ہوچکا ہے، یہاں گنتی کے افراد ہی رہائش پذیر ہیں جنہیں اپنی زندگی کی بقا کے لیے بڑی محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ یہ لوگ اس پراسرار نیند میں مبتلا ہوکر ہر وقت سوتے رہتے ہیں تو روزی روٹی کب اور کیسے کمائیں گے؟

بالکل یہی کیفیت قزاقستان کے قریب واقع ایک گائوں کی بھی جہاں اب گنتی کے لوگ ہی رہتے ہیں۔ روس کے علاقےKrasnogorsk اور قزاقستان کے علاقے کالاچی کے درجنوں لوگ بھی اس پراسرار نیند کی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں جو انہیں پورا ہفتہ ہی سلائے رکھتی ہے۔ اگر یہ لوگ جاگتے بھی ہیں تو ہر وقت اونگھتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کی نیند کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ اس بیماری میں مبتلا ایک مقامی بوڑھے کو تو مُردہ سمجھ کر زندہ دفن کردیا گیا تھا، مگر جب وہ زندہ نکلا تو پھر یہاں بے چینی پھیل گئی اور ماہرین نے اس وبائی مرض کے بارے میں تحقیق شروع کی تب یہ انکشاف ہوا کہ یہاں کے لوگ مسلسل سوتے رہتے ہیں۔ دوران تحقیق ماہرین نے یہ بھی پتا چلایا کہ یہ بیماری یورینیم کی ایک ایسی سرنگ کے قریب واقع علاقوں میں پھیل رہی ہے جو اب استعمال میں نہیں رہی ہے۔

پراسرار نیند کی یہ بیماری پہلے  اچانک مئی 2013میں منظر عام پر آئی جس کے بعد اس نے 2014کے نئے سال میں اپنا جلوہ دکھایا اور پھر مئی 2014 میں اس حوالے سے کئی کیسز سامنے آئے۔ یہاں کے بعض افراد خاص طور سے بوڑھے افراد تو ہر وقت اپنا بیگ تیار رکھتے ہیں کہ کہیں انہیں فوری طور پر اسپتال نہ لے جانا پڑے۔ عام لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نیند کی اس پراسرار بیماری کا سبب قریب ہی واقع یورینیم کی وہ کان ہے جو اب استعمال میں نہیں رہی ہے۔ لیکن جب ماہرین نے اس حوالے سے تحقیق کی تو انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا جو یورینیم کی کان اور نیند کی بیماری کے درمیان کوئی تعلق قائم کرسکے۔

پراسرار نیند کے مریضوں پر لگ بھگ 7,000تجربات کیے جاچکے ہیں۔ اس دوران ہر طرح کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں مقامی وڈکا شراب کا تجزیہ اور تاب کاری کا ٹیسٹ بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی علاقے کی مٹی، پانی اور ہوا کو بھی چیک کیا گیا اور متاثرہ افراد کا خون، بال اور ناخن بھی ٹیسٹ ہوئے۔ لیکن ابھی تک کوئی ایسا نتیجہ سامنے نہیں آیا جو اس بیماری کی وجوہ پر روشنی ڈال سکے۔

بچے اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوئے۔ انہیں خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں، وہ واہموں اور فریب نظر کا شکار بھی رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں کمزوری بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ ہر وقت غنودگی کی کیفیت میں دکھائی دیتے ہیں، یہاں تک کہ اس مرض میں مبتلا بچوں کی یادداشت بھی متاثر ہوگئی ہے۔ دوسری جانب بالغوں کی کیفیت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ ان کے سامنے مکمل اندھیرا چھاجاتا ہے۔

کالاچی سے تعلق رکھنے والی پچاس سالہ خاتون Marina Felk نے اخباری نمائندوں کو بتایا:’’میں حسب معمول علی الصبح گایوں کا دودھ دوہ رہی تھی کہ یکایک میرے سامنے اندھیرا چھا گیا اور سب کچھ غائب ہوگیا، ہوش آیا تو میں اسپتال کے ایک وارڈ میں تھی، مجھے دیکھ کر نرسوں نے مسکراتے ہوئے کہا:’’خوش آمدید سلیپنگ پرنسز، آخرکار تم بیدار ہوگئیں!‘‘

مجھے کچھ بھی یاد نہیں تھا، جب کہ مجھے بتایا گیا کہ میں پورے دو دن اور دو راتیں سوتی رہی تھی۔ میرے وارڈ میں موجود ایک نرس نے مجھے بتایا کہ جب کبھی اس نے مجھے جگانے کی کوشش کی تو میں مسلسل یہی کہتی رہی:’’مجھے اپنی گایوں کا دودھ دوہنا ہے۔‘‘

تیس سالہ Alexey Gom نیند کی اس پراسرار بیماری کا اس وقت شکار ہوا جب وہ اپنے رشتے داروں سے ملنے کالاچی گیا تھا۔

اس نے کہا:’’میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنی ساس کو دیکھنے اور ان کی مزاج پرسی کرنے گیا تھا۔ میں نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا اور اس کے صفحات کھولنے شروع کیے، کیوں کہ مجھے اپنا کام جلدی نمٹانا تھا۔ بس اسی وقت مجھ پر اس بیماری کا حملہ ہوگیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے اندر کا بٹن بند کردیا ہے۔ میری آنکھ اسپتال میں کھلی۔ میری بیوی اور میری ساس میرے بستر کے پاس کھڑی تھیں۔ ڈاکٹروں نے میرے کئی ٹیسٹ لیے اور بتایا کہ میرے ساتھ کوئی گڑبڑ نہیں ہے، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میں تیس گھنٹے سے زیادہ عرصے تک سوتا رہا تھا۔ مگر اس کا سبب کوئی ڈاکٹر معلوم نہ کرسکا۔‘‘

سوویت دور میں Krasnogorsk یورینیم کی خفیہ سرنگ والا قصبہ تھا، مگر یہ سرنگ عرصہ ہوا بند ہوچکی ہے۔ اس سرنگ کو اور اس میں ہونے والے کام کو براہ راست ماسکو سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ یہ قصبہ کسی زمانے میں 6,500  افراد کا گھر تھا، اب وہاں بہ مشکل 130 افراد بستے ہیں جنہیں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

لوکل کمیونٹی کونسل کے سربراہ الیگزینڈر ریٹس نے بتایا:’’ہماری دکانوں پر آپ کو سب کچھ مل جائے گا: گوشت، کنڈینسڈ ملک، یوگوسلاویہ کے بنے ہوئے جوتے، ایک کان کن یہاں ہر سال تین نئی کاریں خرید سکتا ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کی دو نرسریاں بھی ہیں اور دونوں میں سوئمنگ پول ہیں۔‘‘

کچھ مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کے درجۂ حرارت کے اچانک بڑھنے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے، لیکن اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

کچھ سائنس دانوں کا یہ خیال ہے کہ یہاں کی کان سے یورینیم گیس بھاپ بن کر اڑتی ہے، جب کہ دوسروں کا دعویٰ ہے کہ یہ گیس مذکورہ بالا یورینیم کی کان سے رس رس کر مقامی دریائوں کے پانی میں شامل ہوچکی ہے جس کی وجہ سے نیند کی یہ پراسرار بیماری پیدا ہوئی ہے۔

یہ بیماری امریکا میں پھیلی ‘Bin Laden itch’ نامی بیماری سے ملتی جلتی ہے جس میں متاثرہ افراد کی جلد پر سرخ دھبے پڑگئے تھے۔ مقامی افراد اس اندیشے کا اظہار کررہے ہیں کہ کہیں یہ بیماری بھی اسی طرح کی بیماری نہ ہو۔ اگر ایسا ہوا تو بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

اس خطے کے ایک ماہر ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا ہے:’’جب مریض نیند سے جاگتا ہے تو اسے کچھ یاد نہیں ہوتا۔ یہ کہانی ہر بار ایک ہی ہوتی ہے۔ اس میں متاثرہ فرد کمزور ہوجاتا ہے، وہ سست روی کے ساتھ ری ایکشن ظاہر کرتا ہے اور پھر گہری نیند سوجاتا ہے۔ افسوس کہ ابھی تک ہم نہ تو اس بیماری کی نوعیت جان سکے اور نہ اس کے اسباب کا پتا چلاسکے ہیں۔ ہم نے انفیکشنز کو نظر انداز کرتے ہوئے خون کو بھی چیک کیا اور ریڑھ کی ہڈی کے پانی کو بھی، مگر یہ سب ٹھیک نکلے۔ دوسرے پہلوئوں پر بھی غور کیا گیا، مگر سب کچھ ٹھیک ہے البتہ اس بیماری کے اسباب معلوم نہ ہوسکے۔ یہ لوگ پورے ہفتے سوتے ہیں، کیوں؟ جیسے ہی اس کا سبب معلوم ہوگا، ہم اس سے بچائو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے۔‘‘

June 29, 2014
by PharmaReviews
0 comments

اسٹاک ہوم: عام طور پر انسانی دماغ میں خون کے جم جانے یا کسی وین کے پھٹ جانے کا فوری طور پر علم نہ ہونے سے بیماری کا علاج ممکن نہیں رہتا تاہم اب سائنسدانوں نے تیار کر لیا ہے ایسا مائیکروویو ہیلمٹ جو فوری بتا سکے گا کہ مریض کس قسم کے اسٹروک کا شکار ہوگیا ہے۔

مائیکرو ویو ہیلمٹ کی بدولت فوری پتا لگانا ممکن ہوگیا ہے کہ مریض کس قسم کے اسٹروک کا شکا ر ہوا۔ بی بی سسی فوٹو

سوئیڈن کے سائنسدانوں نے کئی سال کی کاوشوں کے بعد اس ہیلمٹ کو تیار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ سے نکلنی والی مائیکرو ویوز دماغ سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں اور فوری طور پر پتہ چل جاتا ہے کہ دماغ کی کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کہں کلوٹنگ ہوئی ہے۔ سائنسدانوں نے اس ہیلمٹ کو ایمبولینس عملے کو دے کر 45 مریضوں پر تجربات کئے جس کے نتائج انتہائی کامیاب رہے اور ایمبولینس کے دوران ہی پتہ چل گیا کہ مریض کس قسم کے اسٹروک کا شکار ہوا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے جب کسی فرد کو اسٹروک ہو جاتا ہے تو فوری طور پر برین ہیمرج سے بچنے کے اقدامات کیئے جاتے ہیں تاہم اگر مریض کو لانے میں 4 گھنٹے سے زائد گزر جائیں تو دماغ کے ٹشوز مرجاتے ہیں اور دماغ کا بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسٹروک کا فوری پتہ کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی سٹی اسکین  سے لگایا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے مریض اگر ایمرجنسی میں بھی ہے تب بھی اس کا انتظام کرنے میں وقت لگ سکتا ہے اور وقت کا کھونا دماغ کے کھونے کے برابر ہوتا ہے یعنی وقت گذرنے کے ساتھ ہی ریکوری بھی ممکن  نہیں رہتی،اسی وقت کو بچانے کے لیے سوئیڈن میں چیلمر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور ساہلگرینسکا اکیڈمی کے سائنسدان نے مائیکروویو ہیلمٹ تیار کیا تاکہ اسٹروک کے مرض کا فوری پتہ لگا کر دماغ کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

ہیلمٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ اسٹروک کا باعث دماغ میں خون کا جمنا ہے یا پھر برین ہیمرج،سرجنز کا کہنا ہے کہ اس ہیلمٹ کی بدولت اسٹروک کے مریضوں کا فوری اور تیزی سے علاج ممکن ہوجائے گا جس سے دماغ کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے گا۔

June 29, 2014
by PharmaReviews
0 comments

کراچی: ماہرین طب نے کہاہے کہ روزے رکھنے سے انسان مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے اور صحت کے مسائل میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

 

بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیاکے ان ملکوں میں سرفہرست ہے جہاں صحت کے مسائل کوزیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، کم کھانے سے اچھی صحت برقرار رہتی ہے جبکہ عام دنوں میں غیر ضروری چیزیں کھانے سے جسم میں چربی بننے کا عمل شروع ہوجاتاہے،روزے رکھنے سے انسان کامعدہ معمول سے کم کام کرتا ہے اور وزن میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے رمضان المبارک میں سحر وافطار کے وقت اعتدال سے کھاناکھائیں ، دل اور شوگر کے مریضوں کوتلی ہوئی چیزیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔

شوگرکے مریض سحرکے اوقات میں معالجین کے مطابق دوائیں استعمال کرکے روزہ رکھ سکتے ہیں تاہم روزے کے دوران ان مریضوں کواپنی دوائیں سحراورافطارکے فوری بعدلینا چاہئیں ،شوگرکامریض اپنے معالج کے مشورے اورسحر وافطار میں شوگرچیک کرکے روزے رکھ سکتا ہے،شوگرکے وہ مریض جوکم رسک گروپ میں شامل ہیں وہ احتیاط اوراپنے معالج کے مشورے ورہنمائی سے روزے رکھ سکتے ہیں۔

June 28, 2014
by PharmaReviews
0 comments

FDA panel fails to back AZ ovarian cancer drug olaparib

AstraZeneca has suffered a setback with advisors to the US Food and Drug Administration recommending against accelerated approval of olaparib for ovarian cancer.

The agency’s Oncologic Drugs Advisory Committee has voted 11 to 2 that current evidence does not support early approval for use of olaparib as a maintenance treatment for platinum-sensitive relapsed ovarian cancer in women who have the germline BRCA mutation, and who are in complete or partial response to platinum-based chemotherapy. The vote comes after FDA staffers expressed concern about a subgroup retrospective analysis of Phase II data on the poly ADP-ribose polymerase (PARP) inhibitor which revealed a 7.1 month median improvement in progression-free survival.

AstraZeneca decided, in December 2011, not to progress olaparib into Phase III, but reversed that decision on the basis of results for the aforementioned subgroup. It received priority review status in April from the FDA but the latter’s staffers have questioned whether the reanalysis skewed the results.

The panel also mentioned safety issues such as bone marrow suppression, fatigue, nausea and abdominal pain and cases of myelodysplastic syndrome and acute myeloid leukaemia in study participants that had a small risk of being linked to olaparib.

Briggs Morrison, AstraZeneca’s chief medical officer, said that patients “have few options available to treat this disease” and “we are disappointed with [the] recommendation”. He added that “we strongly believe that olaparib has the potential to provide patients…and their doctors with a much-needed treatment option”.

However this is not the end of the road for olaparib as Dr Morrison said the firm is continuing with its Phase III clinical programme to evaluate the benefit of the drug for this patient population. “We aim to have completed this study by the end of 2015,” he added.

Nevertheless, the decision is indeed disappointing given that AstraZeneca, when fending off the advances of Pfizer earlier this year, had predicted peak sales potential of olaparib at $2 billion.

Sources

 

June 28, 2014
by PharmaReviews
0 comments

Use of Avastin for hard-to-treat ovarian cancer

Advisors to the European Medicines Agency have backed Roche’s blockbuster Avastin for the most difficult to treat form of ovarian cancer.

The EMA’s Committee for Medicinal Products for Human Use (CHMP) has recommended that the European Commission approve the use of Avastin (bevacizumab) in combination with chemotherapy as a treatment for women with ovarian cancer that is resistant to platinum-containing chemotherapy. The positive opinion is based on a Phase III study showing that the addition of Avastin to chemotherapy reduced the risk of disease worsening or death by 62%.

The big-selling drug is already approved in Europe for ovarian cancer, among many other cancers, such as breast, colorectal, non-small cell lung and kidney. Of the 230,000 women diagnosed worldwide each year many will have advanced ovarian cancer that will return after initial treatment, Roche noted, and chief medical officer Sandra Horning noted that women with platinum-resistant ovarian cancer “have limited medicines available for their difficult disease”.

She added that getting the label expansion “would be an important step in helping these women live longer without their disease progressing